آٹھواں عجوبہ!

برادرم حسین شیرازی کی نئی کتاب ’’آٹھواں عجوبہ‘‘ کے کچھ اقتباسات پہلے پیش کر چکا ہوں چند ایک مزید ملاحظہ فرمائیں ۔

ہمارا دوست عرفان کہتا ہے کہ دنیا کی سب سے اہم کرنسی ڈ الر کے نوٹ میں الو اور مکڑی کی تصویریں ہیں جو یہ واضح کرتے ہیں کہ دولت کی اساس حماقت اور ضعف پر ہے۔ کئی لوگ دعا کرتے ہیں کہ وہ جس مکان میں رہتے ہیں خدا اسے گھر کر دے، ہمارے دوست پروفیسر خیال صاحب بہت افسردہ بیٹھے تھے، وجہ پوچھی تو بولے کہ بیٹے نے سعودی عرب سے ڈرافٹ بھجوایا تھا اور بیگم نے پلاٹ خرید کر گھر بنانے کی ذمہ داری مجھے سونپ دی ہے بس اب تباہی ہی تباہی ہے، انہیں بہت سمجھایا ہے کہ احمق لوگ گھر بناتے ہیں جبکہ عقلمند ان میں رہائش رکھتے ہیں، اب میرا پڑھنا لکھنا تو آئندہ دوسال کےلئے سیدھا سادہ بھاڑ میں گیا۔

کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو ورثے میں جائیداد نہیں چھوڑتے یا ایسی اولاد نہیں چھوڑتے جو ان کے مرنے کے انتظار میں رہتی ہے ۔

کوئی سیاح میکسیکو گیا وہاں اس نے ایک ساتھ بہتے ہوئے دو چشمے دیکھے، ایک میں گرم پانی تھا اور دوسرے میں ٹھنڈا …ایک مقامی شخص کپڑے دھو رہا تھا، سیاح نے اس شخص سے کہا کہ دیکھو قدرت تم پر کتنی مہربان ہے ٹھنڈے اور گرم پانی کی سہولت ایک ہی جگہ مل رہی ہے، مقامی فرد منہ بنا کر بولا ’’خاک قدرت کرم فرما ہے گرم پانی میں واشنگ پائوڈر تو ہے ہی نہیں‘‘۔

زندگی باکسنگ یا مکا بازی کا کھیل ہے جس میں جیتنے والے کو بھی کئی زوردار گھونسے (پنچ)پڑتے ہیں بلکہ ماضی میں وہ کبھی کبھار ناک آئوٹ بھی ہوگیا ہوتا ہے، محمد علی کلے کو دنیا کی تاریخ کا عظیم ترین باکسر مانا جاتا ہے، اس کا مکا کھا کر مدمقابل کئی فٹ دور جا گرتا تھا لیکن اسی مارا ماری میں اس کا اعصابی نظام اتنا لاغر ہوگیا تھا کہ زندگی کے آخری حصے میں وہ اپنے ہاتھ سے چائے کا کپ بھی نہیں اٹھا سکتا تھا۔

ہم کافی غوروخوض کے باوجود زندگی اور شراب ِخانہ خراب کا رابطہ سمجھنے سے قاصر ہیں، لوگ خوش ہوتے ہیں تو مے کے جام لنڈھاتے ہیں، لوگ دکھی ہوتے ہیں تو بھی اسی آبِ آتشیں میں اپنے غموں کو جلا کر راکھ کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں، کسی نے پوچھا کہ بادہ خوار ،صہبا کے نشے میں دھت ہو کر جانور کیوں بنتے ہیں ؟جواب ملا تاکہ انسان ہونے کے عذاب سے عارضی ہی سہی نجات پالیں ۔

ہم 1974سے 1977تک ان دنوں کہلائے جانے والے صوبہ میں کسٹم کے انچارج تھے، اس حوالے سے اکثر طورخم کسٹم سیکشن کے معائنے کے لئے جاتے تھے جہاں کئی افغان خواتین اسکرٹ پہن کر آجا رہی ہوتی تھیں ۔1979ء میں روسی مداخلت کے بعد امریکہ نے اسلامی جہادیوں کے کندھے استعمال کرکے روسی فیڈریشن کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے پھر جہادیوں نے ان عورتوں کو ا سکرٹ سے ٹوپی والے برقعوں میں منتقل کر دیا۔2001ءمیں امریکہ نے براہ راست حملہ کرکے ان برقعوں کو اتار پھینکنے کے کلچر کے احیا پر سینکڑوں بلین ڈالر خرچ کئے، اب 20سال بعد اسی امریکہ نے افغانستان کو دوبارہ طالبان کے سپرد کرکے عورتوں کے حقوق کا واویلا شروع کر دیا ہے افسوس کہ اس اسکرٹ کو برقعے اور پھر برقعے کو چادر بنانے کے مشن میں امداد کرتے ہوئے ہم نے اپنے ہزاروں پاکستانی شہید کروائے، کھربوں روپے کا نقصان اٹھایا اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے پھر ہمیں یہ طعنہ بھی دیا جاتا ہے کہ ہم کرائے کے مزدور بلکہ ….تھے ہم کئی دہائیوں تک افغانستان کو اپنی تزویراتی گہرائی بتاتے رہے پھر امریکہ کافی مدت تک یہ الزام دہراتا رہا کہ طالبان پاکستان کو اپنی تزویراتی گہرائی بنا کر اس کے فوجیوں کو مار رہے ہیں !!!

1980ء میں ہمارا دفتر اسلام آباد ایئر پورٹ پر تھا، ایک دن ایئر پورٹ کی فضا ڈھول ڈھمکوں اور ترانوں کی آوازوں سے گونج اٹھی، افغان جہاد زورشور سے جاری تھا، تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ کوئی افغان کمانڈر بیرون ملک سے آرہا ہے، وہ صاحب ہم سے بھی ملے، انکا سامان آیا تو ہم دیکھ کرحیران ہو گئے کہ اس میں وی سی آر سینسوئی (Sansui)اور کینوڈ (Kenwood) کے انتہائی اعلیٰ درجے کے کیسٹ پلیئرز، ریکارڈ پلیئر ووفر، ایمپلی فائر، ٹیوٹر اور ساٹھ ساٹھ کلو گرام سے زائد وزنی اسپیکر شامل تھے، ہم چند ماہ پہلے ہی برطانیہ سے ایک تربیتی پروگرام میں شرکت کرکے آئے تھے، وہاں اس طرح کا سامان بڑے بڑے گلوکار اپنےا سٹیڈیم میں ہونے والےپروگرام میں استعمال کرتے تھے اور ان دنوں ایسا میوزک سسٹم چالیس پچاس ہزار ڈالر مالیت کا تھا ،ہم ان کے نمائندے سے کہے بغیر نہ رہ سکے کہ جناب یہ میدان جنگ کا سامان ہے یا کسی نائٹ کلب کا، ویسے کافی عرصے بعد پتہ چلا کہ یہ کمانڈر کسی دوسرے شہر کسی لڑکے کو بیاہنے کے لئے اپنی بارات ٹینکوں پر بھی لے کر گئے تھے !!

ہم نے کمانڈر والا قصہ اپنے پولیس آفسر دوست عرفان کوسنایا تو انہوں نے تبصرہ کیا، افغانستان کو چھوڑو خود میرے سامنے کسی مقدمے میں ایک ایسے نکاح رجسٹرار مع رجسٹر پیش کئے گئے تھے جو نہ صرف مردوں کا لڑکوں سے نکاح پڑھواتے تھے بلکہ باقاعدہ اس کی سند بھی جاری کرتے تھے، ایسےکسی دولہا سے اگلی نسل کے بارے میں استفسار کیاگیا تو اس نے جواب دیا کہ میرا قدرت پر پورا ایمان ہے۔تاشقند ایئر پورٹ پر جہاز میں صفائی کیلئے آنے والی خواتین اسلام علیکم کہہ کر ٹرانزٹ مسلمان بھائیوں (اگرچہ بیشتر کے ارادے ایسے بالکل نہیں تھے )سے ہاتھ بھی ملانے کی کوشش کر رہی تھیں، خواتین سے بھائی کا لفظ سن کر بہت سے پاکستانی بدکتے ہیں، وجہ ایک خاتون نے کسی شخص کو بھائی کہا تو اس نے یہ رشتہ قبول کرنے سے انکار کر دیا خاتون نے سوال کیا کہ کیا وہ بہنوں میں ایک اور اضافے سے ڈرتا ہےتو اس نے جواب دیا نہیں میں آدھے شہر کا سالا ہونے سے خوف کھاتا ہوں!

ہمارے ایک دوست جمعہ پڑھنے کے ثواب کے بارے میں سن کر اتنے جذباتی ہوئے کہ تیاری کرکے سیدھے 2بجے مسجد پہنچ گئے، مولوی صاحب اور چند نمازی بیٹھے تھے، یہ بھی انتظار کرنے لگے، ڈھائی بجے تک نمازی رخصت ہوگئے اور امام صاحب مسجد کو تالا لگانے کے لئے ان کی رخصتی کی گھڑیاں گننے لگے، اس مرحلے پر انہوں نے مولانا سےاستفسار کیا کہ کیا آج جمعہ نہیں پڑھایا جائے گا! انہوں نے جواب دیا برخوردار آج ہفتہ ہے، جمعہ کل پڑھایا جا چکا ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں