بچپن کے برے حالات، جوانی میں امراضِ قلب کی وجہ بن سکتے ہیں

ڈنمارک: ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ جو بچے ابتدائی عمر میں کسی نامناسب حالات سے گزرتے ہیں جوانی میں وہ رگوں کی تنگی اور امراضِ قلب کے شکار ہوسکتے ہیں یا ان امراض کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

ان مسائل میں خاندان میں بیماری یا موت، غربت وتنگدستی، ناچاقی اور گھریلو لڑائی، نظراندازکرنے اور خاندان میں تناؤ وغیرہ شامل ہیں۔ اس ماحول میں رہنے والے بچے فوری طور پر تو متاثر ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ عین جوانی میں بھی امراضِ قلب کے شکار ہوسکتے ہیں۔

یورپی جرنل آف ہارٹ میں شائع رپورٹ میں جنوری 1980 سے دسمبر 2001 کےدرمیان 13 لاکھ بچوں کو جائزہ لیا گیا تھا۔ اس دوران 4118 بچے قلبی رگوں کی بیماری (سی وی ڈی) کےشکار ہوچکے تھے جو ان کی سولہویں سالگرہ سے 2018 کے اختتام کے دوران ہوا جبکہ بعض افراد کی عمر 38 برس تک تھی۔

ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرنوعمری میں بھی یہ مسائل جان نہ چھوڑیں تب بھی اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم بچپن میں نامساعد حالات سے جوانی میں امراضِ قلب کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھ سکتا ہے جو اس طویل مطالعے سےعیاں ہے۔ اگر اوسطاً 30برس کے ایک لاکھ افراد موجود ہوں تو 50 افراد میں امراضِ قلب کا اندیشہ ہوسکتا ہے لیکن گھریلو مسائل سے مزید 10 سے 18 کیس بڑھ سکتے ہیں جو ایک بہت تشویشناک امر ہے۔

بالخصوص بچپن میں گھرمیں اموات، شدید دیرینہ امراض کےمنفی اثرات بہت سخت ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ڈنمارک کے کل 1,263,013 بچوں کا مطالعہ کیا گیا جو اپنی سولہویں سالگرہ تک زندہ تھے اور کسی امراضِ قلب کے شکار نہ تھے۔

مطالعے میں صفر سے 15 برس کےبچے شامل تھے جنہیں 5 مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں بہت کم گھریلو مسائل والے بچے، مادی ضرویات سےمحروم (بیروزگاری اور غربت)، مستقل محرومی، بہن بھائی یا والدین کو کھودینے والے یا کھونے کے خطرے کے شکار بچے، اور پانچویں قسم ان بچوں کی تھی جو تمام اقسام کے شدید مسائل میں گھرے تھے۔

ان میں سے جن بچوں نے بھوک اور بیماری دیکھی ان میں امراضِ قلب کی شرح بھی بلند دیکھی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں