قانون اور ادارے سو رہے ہیں

رہنے کے اعتبار سے ملتان اب بھی دیگر شہروں کے مقابلے میں بہت بہتر شہر ہے۔ میں نے ایک بار لاہور میں اپنے ایک دوست سے کہا کہ ملتان میں بڑے شہروں والی ساری خوبیاں اور سہولتیں تو موجود ہیں مگر اس میں ابھی تک بڑے شہروں والی خرابیاں پیدا نہیں ہوئیں۔ اللہ جانے اس دوست نے میرے اس جملے سے کیا مطلب اخذ کیا اور وہ تھوڑا سا تلخ ہو کر مجھ سے جوابدہی کے انداز میں بولا‘ بڑے شہروں میں کیا خرابیاں ہوتی ہیں؟ میں نے اس ناراضی اور لہجے کی تلخی کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے اسے بڑے رسان سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بڑے شہروں کی سب سے بڑی خرابی تو یہ ہوتی ہے کہ وہ بہت بڑے ہوتے ہیں۔
ایمانداری کی بات ہے کہ اسے مجھ سے اس جواب کی توقع نہ تھی۔ میرا جواب سنتے ہی اس کی ساری تلخی اور ناراضی ہوا ہو گئی۔ میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ ڈی ایچ اے فیز سکس سے کبھی اپنے کسی دوست کو بحریہ ٹاؤن بلا کسی کام کے ملنے گیا ہے؟ اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔ میں نے اسے ہنس کر بتایا کہ ہم ملتان والے شہر کے دوسرے سرے پر رہنے والے اپنے دوستوں سے بغیر کسی کام کے‘ ان کے ساتھ محض گپیں مارنے اور حال چال پوچھنے کیلئے چلے جاتے ہیں اور اس میں وقت ہی کتنا لگتا ہے۔ ملتان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جائیں تو بھلا بیس پچیس منٹ سے کیا زیادہ وقت لگتا ہو گا؟ ہاں‘ سکول ٹائم پر ٹریفک اپنی بے ڈھنگی چال کی وجہ سے پھنس جاتی ہے اور اس وقت آپ کو صرف نو نمبر چونگی پر بھی آدھ گھنٹہ لگ جائے تو حیرانی کی بات نہیں مگر عام حالات میں ہم اپنے گھر سے شہر کے دوسرے طرف واقع گارڈن ٹاؤن‘ ممتاز آباد یا وہاڑی چوک کی طرف بھی جائیں تو بیس پچیس منٹ سے زیادہ نہیں لگتے۔ آسانیوں اور سہولتوں کا یہ عالم ہے کہ ہر اچھے انگریزی میڈیم سکول اور کالج کی برانچ موجود ہے۔ دل کا ہسپتال ہے‘ نشتر میڈیکل کالج اور ہسپتال موجود ہے۔ دو پرائیویٹ میڈیکل کالجز ہیں۔ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی اور دیگر تین‘ چار یونیورسٹیاں‘ ایک عدد زرعی اور ایک انجینئرنگ یونیورسٹی کے علاوہ دو تین پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہیں۔ ٹاپ کی دو تین ہاؤسنگ سکیمیں ہیں۔ ملٹی نیشنل فوڈ چینز موجود ہیں۔ کپڑوں کے تقریباً سارے بڑے برانڈز کی آؤٹ لیٹس ہیں۔ بھلا اور کیا چاہئے؟ باقی رہ گئی بات مزید خواہشات کی‘ تو اس کی کوئی حد نہیں ہے۔
میں نے اس دوست سے کہا: یہ فاصلے بڑے ظالم ہوتے ہیں۔ یہ دوستوں‘ رشتوں اور تعلقات کو کھا جاتے ہیں۔ ہم ملتان والوں کو لمبے فاصلوں کا مسئلہ درپیش نہیں اس لیے جب دل کرتا ہے منہ اٹھا کر دوستوں کو ملنے چل پڑتے ہیں۔ دوستیاں قائم ہیں‘ ملاقاتیں دائم ہیں اور دل شاد ہیں۔ بھلا کسی کو زندگی میں اور کیا درکار ہے؟ تھوڑی سی مشکل آن پڑے تو درجن بھر دوست منٹوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ میری اہلیہ کا رات سوا دس بجے ہسپتال میں انتقال ہوا۔ شاکر حسین شاکر ایف ایم ریڈیو پر پروگرام کر رہا تھا‘ کسی دوست نے فون کرکے اسے یہ خبر سنائی۔ اس نے ریڈیو پر اپنے سامعین سے یہ خبر شیئر کی اور پروگرام اپنے معاون کے سپرد کر کے میری طرف چلا آیا۔ میں ہسپتال کی کاغذی کارروائی پوری کر کے ایمبولینس پر گھر پہنچا تو آدھی سڑک دوستوں سے بھری پڑی تھی۔ بھلا کسی اور شہر میں ایسا ممکن ہے؟ ملتان میں ابھی روایتی مروت سانس لے رہی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے مطلب کے علاوہ بھی ملتے ہیں۔ ابھی دوست سردیوں میں اس ساگ کے شوقین کو ساگ بھیجتے ہیں اور ملتان کے وضعدار باسی پورے پاکستان میں اپنے دوستوں کو آم اور سردیوں میں سوہن حلوہ بھجواتے ہیں۔ بھلا کسی اور شہر کے باسیوں کو اللہ نے یہ توفیق دی ہے کہ وہ اس فیاضی اور خلوص سے اپنے شہر کی کوئی سوغات بلاتعطل ہر سال اپنے دوسرے شہروں میں رہنے والے دوستوں کو بھجوائیں؟ ہمیں تو خود کسی نے خان پور سے لال مالٹے‘ سرگودھا سے کنو‘ کوئٹہ سے چیری‘ خوشاب سے ڈھوڈا‘ حیدر آباد سے ربڑی‘ ننکانہ سے من پسند‘ لورالائی سے سیب یا سوات سے آڑو نہیں بھجوائے۔ ہاں ایک رستم لغاری ہے جو کراچی سے میٹھا چیوڑا اور سوہن پاپڑی بھیجتا ہے یا لاہور سے میاں ایاز نعمت خانے والوں کا پتیسہ بھجواتا ہے۔ بھلا اور کسے توفیق ہوتی ہے۔ اہلِ ملتان بلامبالغہ ہر سال ہزاروں من آم صرف تحفے کے طور پر پاکستان بھر میں اپنے دوستوں کو بھجواتے ہیں کہ یہ اہلِ دل کا شہر ہے۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ۔ ملتان اب آہستہ آہستہ پھیل تو رہا ہے لیکن جس تیزی سے رہنے کے ناقابل ہوتا جا رہا ہے اس کی وجہ اس کا نئی نئی ہاؤسنگ سکیموں کے باعث پھیلاؤ نہیں بلکہ شہری ترقیاتی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی نالائقی‘ نااہلی اور کرپشن کے باعث بے محابہ بننے والی دوکانیں اور پلازے ہیں جنہوں نے پورے شہر کو بازار بنا کر رکھ دیا ہے اور کوئی جگہ ایسی نہیں جسے رہائشی علاقہ کہہ سکیں۔ چند پرائیویٹ کالونیوں کے علاوہ کوئی سرکاری کالونی‘ کوئی سڑک‘ کوئی گلی‘ کوئی محلہ اور کوئی علاقہ ایسا نہیں بچا جو باقاعدہ یا بے قاعدہ طور پر کمرشل نہ ہو چکا ہو۔ ہر وہ جگہ جہاں دکان بننے کا محض امکان ہو سکتا ہے‘ وہاں دکانیں بن رہی ہیں۔ مین روڈ پر جہاں بھی کسی پلازے کیلئے پلاٹ خالی پڑا تھا وہاں پلازہ بن چکا ہے یا بن رہا ہے۔ پارکنگ کی جگہ موجود ہے یا نہیں اس کا تو مسئلہ ہی نہیں۔ بس پلازہ بنا کر کھڑا کر دیا ہے اور اس کے سامنے والی سڑک پارکنگ بن چکی ہے۔ پرانا بہاولپور روڈ (قسور گردیزی روڈ) کسی زمانے میں ملتان کی سب سے پرسکون‘ کھلی‘ صاف اور دکانوں سے پاک سڑک تھی۔ اس پر گردیزیوں کے گھر اور ریلوے افسران کی کوٹھیاں تھیں اور بس۔ پہلے اس پر دکانیں بنیں اور پھر پلازے۔ اب یہ حال ہے کہ صرف ایک گردیزی صاحب کی وسیع و عریض کوٹھی باقی بچی ہے اور ریلوے کے افسران کی کوٹھیاں محفوظ ہیں باقی ساری سڑک کمرشل ہو چکی ہے اور ایک پلازے میں آنیوالے خریداروں کی گاڑیوں کی پارکنگ اور باہر منتظر کھڑے رکشوں کے طفیل دوپہر کے بعد یہاں سے گزرنا مشکل ہو گیا ہے۔
بوسن روڈ پر چیز اپ اور ایک دو اور پلازوں کے باعث سڑک پر ہمہ وقت ٹریفک جام رہتی ہے۔ نو نمبر چونگی چوک اپنی بدترین ٹریفک انجینئرنگ کے باعث اور اس کے اردگرد کی سڑکیں کالج اور سکول کے اوقات کے دوران پارکنگ سٹینڈ کی صورت اختیار کر جاتی ہیں کہ ٹریفک آدھا آدھا گھنٹہ پھنسی رہتی ہے۔ گلگشت کالونی کبھی ملتان کی چند شاندار رہائشی کا لونیوں میں سے ایک ہوتی تھی۔ سرکاری افسران‘ پروفیسرز‘ کاروباری حضرات اور معززین اس کالونی میں رہنا باعثِ فخر سمجھتے تھے۔ پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ ایجنسی (PHATA) نے ساٹھ کے عشرے میں یہ کالونی بنائی تھی جس میں پلاٹ سائز کے حساب اے‘ بی اور سی بلاک تھے۔ تین مارکیٹیں تھیں‘ پارکس تھے‘ سکول تھے اور ایک جیسے نقشے پر تعمیر کردہ بی اور سی بلاک کے گھر تھے۔ کسی قسم کی روک ٹوک اور قانون نہ ہونے کے باعث یہ کالونی کمرشل ہوتی گئی۔ نہ کسی نے کمرشلائزیشن فیس دی اور نہ کسی سے اجازت لی۔ جس کا جو جی چاہا اس نے بنا لیا۔ ساری کالونی ایک عظیم الشان مارکیٹ بن چکی ہے اور سب کچھ حکم امتناعی پر چل رہا ہے۔
دو عشرے قبل جب میں زکریا ٹاؤن شفٹ ہوا تو بوسن روڈ سے میرے گھر کی گلی تک پانچ دکانیں تھیں۔ کل صرف ایک طرف کی دکانیں گنیں تو تعداد سٹرسٹھ تھی۔ جس کا جہاں جی چاہے دکان بنا لیتا ہے اور جس کا جہاں جی چاہتا ہے گاڑی پارک کر کے دکان میں چلا جاتا ہے۔ نہ کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ کوئی جواب دینے والا۔ ملتان بھی اب بھلا رہنے کے قابل کب رہ گیا ہے؟ اور ملتان پر ہی کیا موقوف؟ ہر شہر کا یہی حال ہے اور قانون اور ادارے بھی ہر جگہ ایک ہی طرح سو رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں