احسن اقبال نے آئی ایم ایف کے کچھ مطالبات کو عوام کے لیے ناقابل برداشت قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے آئی ایم ایف کے کچھ مطالبات کو عوام کے لیے ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کے ساتھ چلنا ہے لیکن آئی ایم ایف کے کچھ مطالبات عوام کے لیے ناقابل برداشت ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سے شرائط نرم کرنےکی کوشش کررہے ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ فوج، اسٹیبلشمنٹ یا عدلیہ ہو، ان سب کو یہ سمجھ لگ جائے گی کہ چار سال کا جو تجربہ ملک کے ساتھ کیا گیا اس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب دنیا میں گیس انتہائی سستی تھی تب پی ٹی آئی نے نہیں خریدی لیکن جب دنیا میں پیٹرول مہنگا ہوا تو یہ سستا کرکے ملک کو خسارے میں جھونک گئے، پاکستان کی تاریخ کا 80 فیصد قرض عمران خان کے دور میں لیا گیا ہے اور ان کا قرض ہمارے حصے میں آیا ہے، یکم اپریل کو وزارت خزانہ کہہ چکی تھی کہ آخری سہ ماہی کے ترقیاتی بجٹ کا پیسہ نہیں ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم ملک سنبھالنے آئے تھے اور سنبھالا، جب انہوں نے آئی ایم ایف کا معاہدہ توڑا تو اس وقت سے ملک کے ڈیفالٹ کا داؤ پیج لگنا شروع ہوگیا تھا مگر ہم نے مشکل فیصلے کیے اور ملک کو دوبارہ آئی ایم ایف پروگرام میں شامل کیا اور ڈیفالٹ سے بچایا، جب ون بلین ڈالر کی پیمنٹ ہونا تھی تو پھر پی ٹی آئی نے شور مچایا کہ ملک ڈیفالٹ کرجائیگا، ہمارا دشمن نہیں کہہ رہا کہ ملک دیوالیہ ہوجائیگا لیکن عمران اور پی ٹی آئی نے ایک نفسیاتی جنگ پاکستان کے خلاف شروع کررکھی ہے۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ وزیر خزانہ کہہ چکے ہم سب کاربند اور پرعزم ہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ چلنا ہے، ہمارا فرض ہے کوشش کریں کہ عوام کے لیے کم سے کم بوجھ لائیں، اس وقت پہلےہی مہنگائی کی سطح دنیا بھر میں بہت اوپر ہے، ہم پر 30 ارب ڈالر کا ماحولیاتی ڈیزاسٹر بھی ہوا، ہم نے چیزوں کو محتاط طریقے سے لے کر چلنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کوئی دو رائے نہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ چلنا ہے، دوست ملک بھی ہماری مدد کرینگے، یقیناً پاکستان کو ایک معاشی بحران کا سامناہے، یہ کسی کو شبہ نہیں کہ یہ ہمیں ورثے میں ملے، ہم نے اسے بہتر کیا ہے اور کریں گے، کچھ اصلاحات الیکشن سے پہلے ہوسکتی ہیں جو دورست ہیں وہ الیکشن کے بعد ہوں گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دوست ممالک ہمیں جانتے ہیں، ہمیں پاکستان کے اندر سے یہ آوازیں نہیں نکالنا چاہئیں کہ ہم ڈیفالٹ کررہے ہیں، ہم کوئی افریقا کی بنانا ری پبلک نہیں ہیں۔